Brailvi Books

فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ
1 - 77
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا 
دُرُود شریف کی فضیلت
امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ سے رِوایَت ہے، فرماتے ہیں:  ”اِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوْفٌ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ لَا یَصْعَدُ مِنْہُ شَیْءٌ حَتّٰی تُصَلِّیَ عَلٰی نَبِیِّکَ بے شک دُعا آسمان اور زمین کے درمیان ٹھہری رہتی ہے، اس میں سے کوئی چیز اُوپر کی طرف نہیں جاتی جب تک تم اپنے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرود نہ پڑھ لو۔“ (1) 
؏	کعبے کے بَدْرُ الدُّجٰی تم پہ کروروں دُرود
طیبہ  کے شمس الضحی تم  پہ  کروروں دُرود (2) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!	صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سفرِ شام اور واقعۂ نِکاح
سرزمین مکہ میں آباد قبیلہ قریش کی معیشت کا زیادہ تر انحصار تجارت پر تھا کیونکہ یہ پوری وادی سنگلاخ وسخت پتھریلی چٹانوں پر مشتمل تھی جس کے چاروں 



________________________________
1 -   سنن الترمذى، ابواب الوتر، باب   فى فضل الصلاة   الخ، ص۱۴۵، الحديث:۴۸۴.
2 -   حدائِقِ بخشش، حصہ دُوُم، ص۲۶۴.